اردو
سورہ حجرات - آیات کی تعداد 18
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ( 1 )
مومنو! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ( 2 )
اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ( 3 )
جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزما لئے ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ( 4 )
جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں
وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 5 )
اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ( 6 )
مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ( 7 )
اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں
فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ( 8 )
(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ( 9 )
اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ( 10 )
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ( 11 )
مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں۔ اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام (رکھنا) گناہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ( 12 )
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ( 13 )
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( 14 )
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ( 15 )
مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں
قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( 16 )
ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔ اور خدا ہر شے کو جانتا ہے
يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 17 )
یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو۔ بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو
کتب
- درود شريف کے مسائلیوں تو دین اسلام میں بدعات کا اضافہ اب روز مرہ کا معمول بن چکا ہے لیکن اذکاروظائف میں خصوصا اتنی زیادہ خود ساختہ اورغیرمسنون چیزیں شامل کردی گئی ہیں کہ مسنون ادعیہ واذکار طاق نسیاں بن کررہ گئے ہیں- دیگرخود ساختہ اورغیرمسنون اذکارووظائف کی طرح درودوسلام میں بھی بہت سے خود ساختہ اورغیرمسنون درودوسلام رائج ہوچکے ہیں- مثلا درود تاج’ درود لکھی’ درود مقدس’ درود اکبر’ درود ماہی’ درود تنجینا وغیرہ- ان میں سے ہردرود کے پڑھنے کا طریقہ اوروقت الگ الگ بتایا گیا ہے اورانکے فوائد (جوکہ زیادہ تردنیاوی ہیں) کا بھی الگ الگ تذکرہ کتب میں لکھا گیا ہے- مذکورہ درودوں میں سے کوئی ایک درود بھی ایسا نہیں جس کے الفاظ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں- لہذا انہیں پڑھنے کا طریقہ اوران سے حاصل ہونے والے فوائد از خود باطل ٹھرتے ہیں-
تاليف : محمد إقبال كيلاني
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مكتبة دار السلام
- قرآن کریم مع اردو ترجمہ وتفسیرقام بترجمة المعاني فضيلة الشيخ محمد الجونا كرهي. مع تفسير فضيلة الشيخ صلاح الدين يوسف. وراجعها من قبل المجمع كل من فضيلة الشيخين د. وصي الله بن محمد عباس و د. أختر جمال لقمان.
اصدارات : شاہ فہد کمپلیکس برائے قرآن کریم پرنٹنگ مدینہ منورہ
- دين اسلام کی محاسن-
تاليف : عبد العزيز بن محمد السلمان
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات ربوہ، رياض
- تفسیر السعدی [ تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان ]زیر نظر تفسیر جدید عربی تفاسیر میں ایک نہایت ممتاز تفسیرہے جوحسب ذیل خصوصیات کى حامل ہے: 1- یہ اسرائیلى اورضعیف روایات سے پاک ہے. 2- اسمیں صرفی ونحوی مباحث اورالفاظ کی لغوی تحقیق سے بالعموم احترازکیا گیا ہے. 3- احادیث کے حوالوں کا بھی اسمیں زیادہ التزام نہیں ہے لیکن اسکے باوجود اسکا منہج سلفی تفاسیرکے عین مطابق ہے. 4- فقہی اختلافات سے بھی بالعموم احترازکیا گیا ہے. 5- بغیرکسی ادعا کے ربط آیات کا ایسا التزام ہے جوتکلف وتعمق سے پاک ہے. 6- نہایت سادہ اورسلیس عربی میں آیت کا مفہوم فاضل مفسرنے اپنی خداداد فہم اورقرآنی بصیرت کی روشنی میں واضح کیا ہے. 7- قصص وواقعات سے عبروحکم کا استنباط بھی خوب اورنہایت عجیب ہے. 8- اسی طرح بعض آیات سے مسائل کا استنباط واستخراج بھی قابل داد ہے. 9- غیرضروری اورلا طائل مباحث سے بھی یہ تفسیرپاک ہے. 10- حشووزائد اورخواہ مخواہ کی طوالت سے اجتناب کیا گیا ہے. مذکورہ خصوصیات کی وجہ سے یہ تفسیرایک منفرد مقام کی حامل اورعرب علماء میں نہایت مقبول اورمعروف ہے.
تاليف : عبد الرحمن بن ناصر السعدي
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : مكتبة دار السلام
- رزق کی کنجیاں کتاب وسنت کی روشنی میںكسبِ معاش كے معاملے میں اللہ تعالى اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو حیرانی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا،بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کے اسباب کوخوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے، اگرانسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھکرمضبوطی سے تھام لے اور صحیح اندازمیں ان سے استفادہ کرے تواللہ لوگوں کیلئے ہرجانب سے رزق کے دروازے کھول دے گا- آسمان سے ان پرخیروبرکات نازل فرمائے گا اور زمین سے ان کیلئے گوناگوں اوربیش بہا نعمتیں پیدا فرمائےگا. زیرنظرکتابچہ میں رزق سے تنگ وپریشان لوگوں کیلئے رزق حاصل کرنے کے دس شرعى اسباب بیان کئے گئے ہیں -( 1- اسغفاروتوبہ 2-تقوى 3-اللہ پرکامل توکل-اللہ عزوجل کی عبادت کیلئے فارغ ہونا5- حج وعمرہ میں متابعت 6-صلى رحمى7-اللہ تعالى کی راہ میں خرچ کرنا8-شرعى علوم کے حصول کیلئے وقف ہونے والوں پرخرچ کرنا9- کمزوروں کے ساتھ احسان کرنا10-اللہ تعالى کی راہ میں ہجرت کرنا) شاید مولائے کریم اسمیں ان بھولے بھٹکے برادران اسلام کیلئے راہنمائی کا سامان پیدا فرمادے جوکسب معاش کی کوششوں میں مگن تو ہیں لیکن حصولِ رزق کے شرعی اسباب سے یا توبے خبرہیں یا باخبرہونے کے باوجود انہیں فراموش کرچکے ہیں اورانکے بارے میں غلط فہمیوں کا شکارہیں.
تاليف : فضل الهي ظهير
نظر ثانی کرنے والا : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات سلطانہ رياض












